ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی :حکومتوں کی پیچیدہ پالیسوں کی وجہ سے تعلیمی نظام ہی ایک مسئلہ بن گیا ہے: بسوراج ہورٹی

سرسی :حکومتوں کی پیچیدہ پالیسوں کی وجہ سے تعلیمی نظام ہی ایک مسئلہ بن گیا ہے: بسوراج ہورٹی

Fri, 27 Aug 2021 19:37:28    S.O. News Service

سرسی:27؍اگست (ایس اؤ نیوز)حکومتوں کی پیچیدہ پالیسوں کی وجہ سے تعلیمی نظام ہی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے سے پہلے ریاستی حکومت کو چاہئے تھاکہ اس کے نقصان اور فائدوں پربحث کرتی ، غوروخوض کرتی ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ راست طورپر اس کو نافذکرنے سے کئی مسائل پیدا ہونےپر  ودھان پریشد کے سبھا پتی بسوراج ہورٹی نے افسوس جتایا۔

وہ یہاں لائنس ہائی اسکول میں ، ہائی اسکول اساتذہ سنگھا کےزیر اہتمام’’ نئی تعلیمی پالیسی اور پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ ‘‘کے عنوان پر منعقدہ سمینار میں  خطاب کررہے تھے۔ بسوراج ہورٹی نے کہاکہ تعلیمی نظام  میں سدھار کاکام ہونا ہے، اس کے بدلے اپنی شہرت کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی پالیسی کو ریاستی حکومت جلد بازی میں نافذ کرنے پر سخت تنقید کی۔ 1948سے لے کر اب تک مختلف حکومتوں کی جانب سے تعلیمی نظام میں سدھار کےلئے تشکیل دی گئیں کمیٹیوں کی رپورٹ دھول چاٹ رہی ہے۔ اب تین  مرحلوں کے تعلیمی نظام کو خیر آباد کہتے ہوئے چار مرحلوں کے تعلیمی نظام کو تشکیل دیاگیا ہے۔ پالیسی میں یہ واضح نہیں ہے کہ کون سی اہلیت کا ٹیچر کس کلاس کو پڑھائے  گا۔ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کئی پیچیدگیوں سے بھری ہوئی ہے ایسے میں بہتر تھا پرانی پالیسی کو جاری رکھتے۔ میں ایک سبھا پتی ہوں  اور تعلیمی پالیسی پر تنقید نہیں کررہاہوں بلکہ میں ماہرین تعلیم کی آراء کا مطالعہ کیا ہوں، جاری ودھان سبھا کا اجلاس ختم ہونے کے بعد دو دن کا ورکشاپ منعقد کیاجائے گا اور اس کے بعد حکومت کو رپورٹ دینےکی کوشش کئےجانے کی بات کہی۔


Share: